ابنا: علماء پاکستان نے بھی الگ الگ بیان جاری کرکے امریکی سفارتخانے کے اس گھناونے اقدام کی مذمت کی ہے اور حکومت اسلام آباد سے کہا ہےکہ امریکی سفارتخانے کے حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئي کی جاے۔ پاکستانی عوام اور علماء نے امریکی سفارتخانے کے اس اقدام کو ثقافتی دہشتگردی سے تعبیر کرتےہوے اس کے خطرناک نتائج پر خبردار کیا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہےاور اس ملک کےحکمرانوں کو ظاہرا ہی سہی یہ دعوے کرتا دیکھا گیا ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسلام پررکھی گئي ہے تو اب امریکہ کا اسلام آباد میں دن دہاڑے ہم جنس پرستوں کے حقوق پر تاکید کرنا کیا اسلام اور مسلمانوں بالخصوص پاکستانی قوم کا منہ چڑانے کے متراف نہیں ہے؟ سوال یہ ہےکہ امریکہ میں اس حدتک گستاخی آئي کیسے اور اس کے کیا اسباب ہیں؟ امریکہ اپنے ان مذموم منصوبوں سے پاکستان میں آخری حدتک مغربی تہذیب رائج کرناچاہتاہے اور پاکستانی مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو زنگ آلود کرکے نیز جواں نسل کو برائيوں میں پھنساکر مغرب کی جنگ پسندانہ پالیسیوں سے غفلت میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ افغانستان میں منشیات کی بھرپور پیداوار، غیراخلاقی فلموں کو عام کرکے نیز اب پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی کھلی حمایت کرکے یہ کہنا چاہتاہےکہ اسلامی ملکوں کےحکمرانوں کی بے غیرتی ، بے حمیتی اور غفلت اس کے لئے سنہری موقع ہے تاکہ وہ اسلامی قوموں کے درمیاں ساری سماجی برائياں عام کرکے ان کے تشخص کو پامال کردے۔ امریکی سفارتخانے کی جانب سے ہم جنس پرستوں کی حمایت فوجی حملوں کےبعد تسخیر پاکستان کی دوسری کوشش ہے جو ایک دوسرے محاذ پر کی جارہی ہے۔ یادرہے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رح نے ملت اسلامیہ کو ہمیشہ مغرب کی ثقافتی یلغار سے خبردار کیا ہے۔رہبرانقلاب اسلامی نے بھی مغربی خباثت کے اس پہلوکی جانب سے ملت اسلامیہ کو انتباہ دیا ہے۔ اس سلسلےمیں اسلامی جمہوریہ ایران کے گرانقدر تجربوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلامی قوانین پرعمل کرتےہوئے اپنے ملک و ملت کو مغرب کی ہرطرح کی ثقافتی یلغار سے محفوظ رکھا ہے۔ مغرب کی ثقافتی یلغار اور اس کی خباثت بھری سازشوں سے ملت ایران کے محفوظ رہنے کا راز یہ ہےکہ ایران کے حکمران اور قوم باغیرت ہے اور اپنے دین اور قومی اقدار کی حفاظت کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
دنیاکےانصاف پسندوں کامطالبہ: ہائی کمشنر ہیومین رائٹس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بحرین روانہ کرےCLICK